Thursday, 9/6/2016 | 5:05 UTC+0


 

’’غذاء ودواء‘‘ کے نئے مسائل فقہ اسلامی کی روشنی میں
شارجہ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک عالمی کانفرنس

بدر الحسن القاسمی (کویت)

متحدہ عرب امارات کی ریاست ’’شارجہ‘‘ جسکی اپنی ایک الگ ہی دینی وثقافتی شناخت ہے، اور جس کے حکمراں خود صاحب علم اور بلند پایہ مصنف بھی ہیں، اور علم وثقافت کو پروان چڑھانے کا خاص جذبہ رکھتے ہیں انھیں کی قائم کردہ ’’شارجہ یونیورسٹی‘‘ کی شریعت فیکلٹی نے ’’غذا ودواء کے نئے مسائل فقہ اسلامی کی روشنی میں‘‘ کے عنوان سے ۱۶؍ اور ۱۷؍ اپریل کو ایک عالمی کانفرنس منعقد کی جسمیں ایک مقالہ کے ساتھ شرکت کی مجھے بھی سعادت ملی۔
کانفرنس کا افتتاح خود ’’شارجہ‘‘ کے حکمراں عزت مآب شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے کیا اور تمام شرکائے کانفرنس سے ملاقات بھی کی۔
اللہ تعالیٰ نے ’’طیبات‘‘ کو انسانوں کیلئے حلال کیا ہے اور ’’خبائث‘‘ کو حرام قرار دیا ہے۔
اسلامی شریعت کی بنیاد ہی بندوں کی مصلحت پر ہے چنانچہ شرعی احکام مکمل عدل، مکمل رحمت، کامل ترین مصلحت اور مکمل حکمت کا مظہر ہیں۔
اور انسان کو اللہ نے جسم اور روح دونوں کا مجموعہ بناکر پیدا کیا ہے، اور جسم کے پاک رہنے میں ہی روح کی سعادت ہے، کیونکہ جسم کی حیثیت روح کی سواری کی ہے اور جو کچھ جسم پر طاری ہوتا ہے اس سے روح متأثر ہوتی ہے۔
اور یہ حقیقت بھی ہے کہ انسان کو اپنے افعال کا حساب دینا ہوگا، اور اللہ رب العزت جو رزاق اور علیم ہے اسکی طرف سے اسکی حرکتوں کی مکمل نگرانی کی جارہی ہے، چنانچہ اس کا فریضہ ہے کہ اپنے دل ودماغ کو لغو ولا یعنی قسم کے خیالات اور اپنے پیٹ کو حرام وناجائز قسم کی غذاء سے مکمل طور پر محفوظ رکھے۔ (أن یحفظ الرأس وما وعی والبطن وما حوی)
حضرت ابراھیم علیہ السلام کی زبان سے رب کائنات کی تعریف میں جو الفاظ صادر ہوئے ہیں انمیں فطرت کی آواز اور انسان کی حاجت وضرورت کی مکمل عکاسی ہے۔
اس میں ایک فقرہ یہ بھی ہے:
(والذی ھو یطعمنی ویسقین، وإذا مرضت فھو یشفین)
یعنی میرا رب صرف روزی ہی نہیں دیتا کھلاتا اور پلاتا بھی ہے، چنانچہ کسی کے پاس انواع واقسام کے کھانے ہوں وسائل کی کمی نہ ہو لیکن وہ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جسمیں آدمی ہر چیز نہیں کھا سکتا، تووہ انواع واقسام کے لذیذ کھانوں پر صرف حسرت کی نظر ہی ڈال سکتا ہے، کھانا بھی اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی شفا بھی دیتا ہے۔دوائیں لاکھ کی جائیں لیکن شفا کا حاصل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔
انسان کی تخلیق سے پہلے ہی اللہ رب العزت نے اسکی غذا اور دوا کا انتظام کردیا تھا، اور زمین میں اسکی خوراک فراہم کردی تھی۔
(فلینظر الإنسان إلی طعامہ، أنا صببنا الماء صبا، ثم شققنا الأرض شقا، فأنبتنا فیھا حبا وعنبا وقضبا، وزیتونا ونخلا، وحدائق غلبا، وفاکھۃ وأبا، متاعا لکم ولأنعامکم)
لیکن ساتھ ہی یہ تلقین بھی فرمائی ہے کہ میری نعمتیں تو بے شمار ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ جو ملے آدمی اس کو ہڑپ لے بلکہ اس کو چاہئے کہ احتیاط اور میانہ روی کا طریقہ اپنائے۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ:
(کلوا واشربوا ولا تسرفوا) (یعنی کھاؤ پیو لیکن حد سے آگے نہ بڑھو)
کیونکہ شکم پری اور بسیار خوری سے آدمی کے جسم کو طرح طرح کے امراض لاحق ہونے لگتے ہیں اور بتدریج وہ اپنی صحت وتوانائی کھوتا چلا جاتا ہے، اور پھر دواؤں کے سہارے اسکی زندگی بسر ہونے لگتی ہے۔
کھانا پینا انسانی خواص میں سے ہے اسے بھوک لگتی ہے اور پیاس کا احساس ہوتا ہے تاکہ اسکے جسم کا جو حصہ محنت ومشقت کے دوران تحلیل ہوا ہے اسکی تلافی ہوتی رہے، اور جسم تندرست وتوانا رہے تاکہ اپنی تخلیق کے مقصد اور دنیا کی تعمیر کے کام میں وہ بھرپور حصہ لے سکے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے بے شمار چیزیں اسکے لئے حلال کی ہیں، غلے‘ پھل فروٹ‘ اور پرندے حلال جانور اور مچھلیاں سبھی کچھ شامل ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ان چیزوں کی فہرست ہے جنکو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور انکے قریب جانے سے بھی منع کیا ہے، اگر گہرائی سے ان کا جائزہ لیا جائے تو اسکی چند بنیادیں نظر آتی ہیں:
’’اسکار‘‘ یعنی وہ چیزیں جو نشہ پیدا کرنے والی ہیں، انمیں شراب کے علاوہ وہ تمام منشیات شامل ہیں جو اسوقت انسانیت کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔ علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں ابن ابی الدنیا کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص شراب کے نشہ میں دُھت خود اپنے ہاتھوں پر پیشاب کرکے اپنے چہرے پر مَل رہا تھا اور یہ بھی کہہ رہا تھا کہ الحمد للّٰہ الذی جعل الإسلام نورا والماء طہورا۔
۔ دوسری چیز ہے ’’ضرر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو اس لئے حرام کیا ہے کہ انمیں انسانی جسم یا اسکی روح کیلئے ضرر کا پہلو ہے، چنانچہ جدید تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ خنزیر ہو یا بہنے والا خون انمیں نہایت مہلک قسم کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔
۔ اسی طرح ہر وہ چیز بھی حرام کی گئی ہے جو ’’خبیث‘‘ ہو، کیونکہ انسانی زندگی کا امتیاز جسم وروح کی طہارت اور پاکیزگی میں رکھا گیا ہے، اور ’’خبیث‘‘ چیزیں اس کے دل کی کدورت اور روح کی آلودگی کا باعث ہوتی ہیں۔
۔ ’’نجاست‘‘ بھی ایسی چیز ہے جو انسان کی طبع سلیم سے مناسبت نہیں رکھتی، اور ہر سلیم الفطرت انسان اس سے کراہیت محسوس کرتا ہے چہ جائیکہ اس کے کھانے پینے کا تصور کرے۔
بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو انسانی فطرت کے منافی ہوتی ہیں اور ان سے آدمی کو وحشت ونفرت ہوا کرتی ہے ایسی چیزوں کے کھانے کی بھی شریعت نے ترغیب نہیں دی ہے۔
اسی طرح اسلام نے حلال جانوروں کے گوشت کو تناول کرنے کیلئے بھی یہ شرط رکھی ہے کہ انکو شرعی طور پر اور اللہ کا نام لیکر ذبح کیا گیا ہو، جس سے مقصد یہ ہے کہ انسان کے دلوں میں توحید کا مفہوم راسخ رہے اور شرک ووثنیت سے جڑی ہوئی چیزیں اسکی خوراک میں شامل نہ ہوں، چنانچہ ان جانوروں کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کئے گئے ہوں یا جنکو بتوں وغیرہ پر چڑھاوے کے طور پر پیش کیا گیا ہو۔
موجودہ زمانہ میں مغرب کی بے لگام تہذیب نے جو مسائل پیدا کردیئے ہیں انمیں تشویشناک مسئلہ مسلمانوں کی دوا اور خوراک کا بھی ہے، ایک ایسے تہذیب وتمدن میں جہاں جائز اور ناجائز اور حلال وحرام کی کوئی حد ہی نہ رکھی گئی ہو اسمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والی قوم اور ایسا دین رکھنے والی اُمت کی زندگی سخت دشوار گزار اور کٹھن ہوجاتی ہے جو اللہ کے حدود کو سرمو بھی پھلانگ نہیں سکتی، اور جو صرف حلال پر اکتفا کرنے والی اور حرام سے مکمل طور پر پرہیز کرنے والی ہو۔
اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح خنزیر اسلامی تعلیمات کی رُو سے نجس العین ہے اور اس کا گوشت پوست سبھی حرام ہے۔
جبکہ صورت حال یہ ہے کہ کھانے پینے اور علاج ودواء کے طور پر استعمال کی جانے والی بہت سی چیزیں بیرونی ملکوں سے ایسی آتی ہیں جنمیں خنزیر کے اجزاء استعمال کئے جاتے ہیں یا کم ازکم اسکی چربی یا اعصاب اور اس کے دوسرے اجزائے جسم سے تیار کی جانے والی جیلاٹین وغیرہ کا استعمال کیا گیا ہو۔
مختلف قسم کے بسکٹ، کیک اور دوائیں ایسی ہیں جنیں شراب یا خنزیر کا استعمال کیا جاتا ہے، بلکہ حسن وجمال کی افزائش کیلئے متعدد ظاہر جسم پر استعمال کئے جانے والے کریم ایسے ہیں جنمیں سور کے اجزاء شامل ہوتے ہیں۔
اسلئے میں نے اپنے مقالہ میں اس بات پر خاص طور سے زور دیا تھا کہ غذاء، دواء اور کامٹک آئیٹم یہ تین راستے ہیں جن سے حرام گوشت اور تیل پر مشتمل اشیاء اسلامی ملکوں میں داخل ہورہی ہیں کیونکہ مغربی اور دیگر غیرمسلم ملکوں کی کمپنیاں دانستہ یا نادانستہ طور پر پٹرو ڈالر کے حصول کیلئے ان ملکوں میں سپلائی کرتی رہتی ہیں، جبکہ شریعت نے حلال کھانے اور حرام سے بچنے کا حکم دیا ہے، بلکہ حرام چیزوں کے بطور علاج استعمال کرنے کی بھی ممانعت کی ہے سوائے ایسی مجبورکن صورت حال کے جب کسی مضطر کی جان بچانے کی ضرورت ہو۔
کیونکہ ان چیزوں کے استعمال میں بے پناہ نقصانات ہیں جسمانی بھی اور اخلاقی بھی، اسلئے ان مسلم ملکوں کا فرض ہے کہ ایسے مواد کے ان ملکوں میں داخلہ پر مکمل طور سے پابندی لگائیں اور بے ضمیر تاجروں اور جرائم پیشہ کمپنیوں پر سخت قسم کا سنسر لگایا جائے تاکہ کسی کو اس بات کا حوصلہ ہی نہ ہوسکے کہ مسلم ممالک کی مارکٹ میں حرام مواد سپلائی کرسکے۔
ظاہر ہے شریعت کے ہر حکم میں گہری معنویت اور زبردست حکمت پنھاں ہے، حکمائے اسلام یا فلسفہ تشریع کے ماہرین نے شرعی احکام کی حکمتوں کے بیان میں غیرمعمولی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ علمائے ہند میں حضرت شاہ ولی اللہ دھلوی نے تو ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ لکھ کر پورے دین کا فلسفہ بیان کردیا ہے، انکے بعد مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بھی اپنی کتابوں میں غیرمعمولی نکتہ آفرینیوں سے کام لیا ہے، اس کے علاوہ جدید تحقیقات نے بھی یہ بات ثابت کردی ہے کہ اسلام نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے وہ سرتاپا مضرت ہی مضرت ہیں، اور ان سے اجتناب بیحد ضروری ہے۔
افسوس ہے کہ مغربی دنیا آئے دن جنون البقر، برڈفلو اور طرح طرح کی وبائی بیماریوں سے دوچار ہونے کے باوجود ان ہلاکت خیز چیزوں سے بچنے کیلئے صرف یہ کہ خود آمادہ نہیں ہے بلکہ اس پر مُصر ہے کہ دنیا کی دوسری قومیں اس طرح کی بیماریوں سے محفوظ نہ رہ سکیں اور انھیں بھی اس کا شکار بنایا جائے۔
شریعت نے علاج کرانے کی تلقین کی ہے لیکن حرام مواد سے بچنے کی بھی تاکید کی ہے کہ حرام مواد میں شفا نہیں مرض ہے۔
اب اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بیرونی دنیا سے درآمد کی جانے والی کھانے کی پیکٹوں میں خنزیر کی چربی یا اس کے انفحہ سے یتار کردہ پنیر کی آمیزش ہوتی ہے۔
خنزیر کی کھال کا استعمال بعض قسم کے صابون کی تیاری میں اور بعض مٹھائیوں اور کیک کی تیاری میں بھی کیا جاتا ہے۔
شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کئے جانے والے انسولین میں بھی اسکی آمیزش ہوتی ہے۔
جہاں تک مرغیوں اور دیگر پالتو جانوروں کی خوراک کا معاملہ ہے تو اسمیں تو عام طور پر حرام گوشت یا آلائشوں کا ہی استعمال ہوتا ہے۔
کانفرنس کیلئے جو موضوعات اختیار کئے گئے تھے انیں غذاء ودواء سے متعلق تمام ہی پہلووں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو یقیناًشارجہ یونیورسٹی کے اہم کارناموں میں شمار کئے جانے کے لائق ہے، اور مقالات کی جانچ اور تحکیم وجائزہ کا کام جامعہ کے اساتذہ نے بڑی محنت سے کیا تھا جس کیلئے کلیۃ الشریعہ کے پرنسپل ڈاکٹر عبد اللہ الخطیب، لجنہ علمیہ کے صدر ڈاکٹر علی الصوا اور لائق پروفیسر ڈاکٹر عثمان شبیر، اسی طرح یونیورسٹی کے دیگر ذمہ داران شکریہ کے مستحق ہیں، گوکہ وقت کی تنگی اور مقالات کی کثرت کی وجہ سے صحیح طور پر بحث ومناقشہ کا موقع نہیں مل سکا مجھے اپنا مقالہ پیش کرنے کے علاوہ بمشکل دو موقع گفتگو کے مل سکے۔
ایک تو ڈاکٹر ابو بکر الصدیق کا مقالہ جسمیں انہوں نے نباتات وحیوانات کی تحسین نسل کیلئے جنیٹک سائنس کے استعمال کو ناجائز اور اللہ کی صنعت گری پر ایمان کے خلاف قرار دیا تھا اس پر مداخلت کرتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ یہ موضوع جدید نہیں ہے اور اس کے بارے میں متعدد فقہ اکیڈمیوں کی طرف سے متفقہ قراردادیں موجود ہیں جنمیں انسانوں کی نسل سے کھلواڑ کرنے سے تو منع کیا گیا ہے لیکن نباتات یا حیوانات کے بارے میں اس کی اجازت دی گئی ہے اور یہ کسی طرح بھی تغییر خلق اللہ کے ضمن میں نہیں آتا، ممانعت اس صورت میں ہوگی کہ اس سے ضرر لاحق ہونے کا خدشہ ہو۔
میری دوسری مداخلت کا حاصل یہ تھا کہ بار بار اجتماعی اجتہاد کی ضرورت پر زور دینے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کام نہیں ہورہا ہے حالانکہ تمام فقہ اکیڈمیوں کے قیام کی اَساس یہی ہے کہ بجائے انفرادی رائے کے اجتماعی طور پر نئے پیش آمدہ مسائل پر غور کیا جائے۔
دوسرا نکتہ میرا یہ تھا کہ نئے مسائل کے حل میں ایک بڑی دشواری یہ ہے کہ ہر فن کے ماہرین کو جمع کرنے سے فائدہ تو یقیناًہے کہ مسئلہ کی نوعیت کو متعین کرنے میں ماہرین کی رائے سے مدد ملتی ہے لیکن بہت سے مسائل میں ماہرین کی رائے میں بھی سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔
خوشی کی بات ہے کہ اس کانفرنس میں فقہ اکیڈمی کی طرف سے محترم امین عثمانی صاحب کی جدوجہد کے نتیجہ میں مولانا عبد الباسط اور مولانا شاہ جہاں ندوی بھی شریک ہوئے اور اپنے اپنے مقالے خوش اُسلوبی سے پیش کئے اور اکیڈمی کی نمائندگی کی۔
مجھے دسیوں کانفرنسوں میں شرکت کے بعد عرصہ سے خواہش رہتی ہے کہ اپنے مدارس کے نوجوان فضلاء اس طرح کے پروگراموں میں شریک ہوں تو اس سے بیحد فائدہ ہوسکتا ہے، انمیں مسائل کو سمجھنے، مختلف موضوعات پر تحقیق کرنے اور بحث ومناقشہ کے طریقہ کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوگی اور انکے ذریعہ علمائے ہند کی معقول نمائندگی بھی ہوگی۔
میرے مقالہ کا خلاصہ تو وہی تھی جو اوپر ذکر کیا گیا اور ملخص پیش کرنے میں عام طور پر اہم علمی نکات رہ جایا کرتے ہیں اور وقت کی کمی بسااوقات موضوعات کا خون کرنے کا باعث بنتی ہے۔
میرے علاوہ دیگر حضرات نے کیا پیش کیا اسکے لئے صرف یہ لکھنا کافی ہوگا کہ افتتاحی اجلاس کے بعد شرکاء کی کثرت کی وجہ سے پروگرام کو بیک وقت دو ہالوں میں تقسیم کردیا گیا اور دونوں جگہ چار چار نشستیں ہوئیں جو صبح سے شام تک بغیر انقطاع کے چلتی رہیں، پھر آخری اجلاس قراردادوں کے اعلان کیلئے منعقد ہوا۔
غذاء ودواء کا مسئلہ اس وقت صرف جھٹکے کی مرغی ومشینی ذبیحہ تک محدود نہیں رہا بلکہ کھانے پینے اور استعمال کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنمیں طرح طرح کی مضر اشیاء شامل کردی گئی ہیں اور انکو بڑے پیمانہ پر عالمی مارکیٹ میں پھیلادیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر ’’مشروب الطاقہ‘‘ (Enargy Drink) جو کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ، فٹبال اور کرکٹ میچوں اور عالمی مقابلوں میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں میں عام کیا جارہا ہے اس میں ’’کافین‘‘ (Caffeine) اور ’’نیوفلین‘‘ (Novilin) کی اتنی مقدار شامل ہوتی ہے جو انتہائی خطرناک ہے ، اس کی ۱۹۱۲ء ؁ میں صرف امریکہ میں ساڑھے چھ بلین ڈالر کی تجارت ہوئی، ظاہر ہے کہ یہ چیزیں جب عالم اسلام کے بازاروں میں عام ہوجائیں تو انکا شرعی حکم بیان کرنے سے پہلے انکی ماہیت اور اجزائے ترکیبی کو جاننے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
باہر سے امپورٹ ہوکر آنے والا گوشت حلال ہے یا حرام اسکی جانچ کیلئے ایک معتبر ذریعہ (DNA) جانچ کا ہے۔
اس کے علاوہ ایک طریقہ (PCR) اور (ELISA) طریقہ بھی بعض ملکوں میں رائج ہے۔
لیکن یہ سارے ہی طریقے کس حد تک کامیاب ہیں اور انمیں جانچ کرنے والے لوگوں کی ذراسی غفلت نتائج پر کس حد تک اثرانداز ہوسکتی ہے یہ چیز تحقیق طلب ہے کیونکہ وقتا فوقتا یہ شکایت اخباروں میں آتی رہتی ہے کہ فلاں ملک میں گوشت کی اتنی مقدار بعض تاجروں نے ایسی داخل کردی ہے جو استعمال کے لائق نہیں، یا انمیں حرام گوشت کی آمیزش تھی۔
غذاء ودواء اور دیگر استعمال کی جو چیزیں بھی بنائی جاتی ہیں انکی مارکیٹنگ کیلئے آج کی دنیا میں مختلف وسائل رائج ہیں: ٹی وی، انٹرنیٹ اور مسینجر، فیس بک ، یہ ساری ہی چیزیں استعمال کی جاتی ہیں۔ ایڈورٹائز کیلئے جدید وسائل کے استعمال کرنے کے نتیجہ میں ایک ہی دن میں بعض چیزیں اس کثرت سے فروخت ہوتی ہیں کہ پہلے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔
مثال کے طور پر (amezon) ویب سائٹ کے ذریعہ تشہیر کے نتیجہ میں (cyber monday) جو سیل یا تنزیلات کا دن ہوتا ہے اسمیں ایک پروڈیکٹ کے ۲۷ ملین پیس فروخت ہوئے، یعنی ہر سکنڈ کا حساب کیا جائے تو ایک سکنڈمیں ۳۰۶ پیس کا اوسط ہوا۔
آپ کہیں گے کہ اس میں تو لوگوں کیلئے آسانی اور کمپنی کیلئے فائدہ کا پہلوہے، اس کا شرعی احکام یا فقہی ضابطوں سے کیا تعلق؟
لیکن ذار سوچئے تو سہی
۔ تشہیر کسی ایسے پروڈیکٹ کیلئے کی جارہی ہے جو حرام ہے۔
۔ یا تشہیر اس طریقہ سے کسی غذا یا دواء کیلئے کی جارہی ہو جسکی کوالٹی صحیح نہیں ہو اور لوگ اعلان کی وجہ سے دھوکہ کا شکار ہوں ۔
۔ تشہیر اس طریقہ پر کی جارہی ہو کہ جس سے دوسری کمپنیوں کا حق مارا جاتا ہو۔
۔ تشہیر کسی ایسی غذاء ودواء یا کسمیٹک چیزوں کیلئے کی جارہی ہو جو لوگوں کیلئے مضرت رساں ہو۔
۔ تشہیر کھانے، پینے یا استعمال کی کسی ایسی چیز کیلئے کی جارہی ہو جسکی ڈیٹ ختم ہوگئی ہو اور وہ چیز اب قابل استعمال نہ رہ گئی ہو تو ان تمام صورتوں میں ظاہر ہے کہ تشہیر پر دھوکہ دہی کی حرمت سے لیکر ’’غرر‘‘ اور ’’احتکار‘‘ کے سارے فقہی ضوابط استعمال ہونگے اور فقہائے ملت کے کام کا دائرۂ کار صرف ’’حیض‘‘ کے ایام کی تحدید اور ’’چوہیا‘‘ یا ’’چڑیا‘‘ کے کنویں میں مرجانے پر نکالے جانے والے پانی کے ڈول کی تعیین تک محدود نہیں رہ جائے گا، جبکہ پانی کی تخزین کے کنووں اور پانی نکالنے کے ڈول کی شکل بھی اتنی بدل گئی ہے کہ فقہاء کو نئی پریشانی کا سامنا ہے۔
اسی طرح ’’فوڈ فاسٹ‘‘ اور دوسری ایسی غذائیں دنیا میں عام ہوگئی ہیں جنکا انسان کی صحت پر غلط اثر پڑ رہا ہے، اور ایسی دوائیں فروخت کی جارہی ہیں کہ جن سے ایک بیماری ٹھیک ہوتی ہو تو دوسری بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں، آدمی دل ٹھیک کرانا چاہے تو جگر خراب ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے، اسلئے فقہاء کو چاہئے کہ غذاء یا دواء کے طور پر کسی چیز کے استعمال کا ضابطہ طے کریں اور نقصان کی نسبت کا پتہ لگانے کے بعد جواز یا عدم جواز کا فتوی دیں۔
جسمانی طاقت کے بڑھاوے، جنسی طاقت میں اضافے اور حسن وجمال کی افزائش کے بہت سے وسائل یا بہت سے پروڈکٹ ایسے ہیں جنکے بارے میں علمائے دین اور فقہائے مسلمین کو صحیح شرعی حکم بیان کرنا ہے اسلئے کسی کے بارے میں ’’مفتی اعظم‘‘ ’’فقیہ ملت‘‘ اور ’’فقیہ عصر‘‘ جیسے القاب کا عام کرنا تو آسان ہے لیکن اس زمانہ میں صحیح معنوں میں ’’فقیہ‘‘ بننے کی شرائط میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، اور مفتی کی ذمہ داریاں اور بڑھ گئی ہیں، ورنہ اگر حالات اور مسائل کی حقیقت سے واقفیت کے بغیر ہی فتوی بازی کا سلسلہ جاری رہا تو پھرگر ہمیں مفتی وہمیں فتوائےکار ایماں تمام خواہد شد
کئی عرب ملکوں میں پڑھی لکھی اور اعلیٰ ڈگری رکھنے والی عورتوں کا تناسب اب کافی بڑھ گیا ہے، اس کانفرنس میں بھی خواتین مقالہ نگاروں کی تعداد خاصی تھی جنمیں شاہی خاندان کی ڈاکٹر رشا القاسمی بھی شامل تھیں جنہوں نے اپنے مقالہ میں حلال گوشت کی جانچ کے نظام پر روشنی ڈالی، بیشتر خواتین شرعی حجاب کی پابند تھیں۔
ایک کالج کی پرنسپل ایک مصری خاتون تھیں جو وضع قطع کے لحاظ سے مغربی طرز وانداز اختیار کئے ہوئے تھیں، کلیۃ الشریعہ کے پرنسپل ڈاکٹر عبد اللہ الخطیب، لبنان میں بقاع کے علاقہ کے مفتی شیخ خلیل الیس، شارجہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان شبیر کے ساتھ ہم کھانے کی میز پر بیٹھے تھے کہ وہ بھی آدھمکیں اور بڑی جرأت کے ساتھ اس پر اصرار کرنے لگیں کہ وہ بھی ایک کرسی پر براجمان ہوں بلکہ آکر بیٹھ بھی گئیں اور فرمانے لگیں کہ آپ لوگوں کو عورتوں سے کوئی نفرت اور الرجی تو نہیں ہے، انکی بیباکی دیکھتے ہوئے میں نے کہا کہ پاکستان کی اسمبلی میں کچھ مشائخ بھی ممبر تھے اور خواتین بھی ، ایک خاتون ممبر نے بڑی بیباکی کے ساتھ ہر ایک کی طرف مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھانا شروع کیا، ہال میں بیٹھے مولانا لوگوں کیلئے یہ بات اُلجھن کی تھی، ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ اگر اس نے ہاتھ بڑھایا تو ہمارا موقف کیا ہونا چاہئے؟ انمیں مولانا غلام غوث ہزاروی بھی شامل تھے انہوں نے دیکھا کہ خاتون ممبر مولانا لوگوں کو اُلجھن میں ڈالنے پر ہی مُصر ہیں چنانچہ اس نے سامنے پہنچ کر مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھا بھی دیا تو مولانا ہزاروی کھڑے ہوگئے اور اپنے جبہ قبہ کے ساتھ دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہنے لگے آپ کے ساتھ مصافحہ سے کام نہیں چلے گا معانقہ کی ضرورت ہے بس وہ خاتون بھاگ کھڑی ہوئیں اور دوسرے مشایخ نے بھی سمجھا کہ عرسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت یونیورسٹی کے اساتذہ میں کئی صاحب علم قابل ذکر ہیں : انمیں ایرپورٹ پر استقبال کیلئے آئے ہوئے ڈاکٹر محمد عثمان ضمیریہ بھی ایک ہیں ، دیکھتے ہی میں نے کہا کہ آپ وہی ہیں جنہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی حجۃ اللہ البالغہ کو دو جلدوں میں اپنی تحقیق وایڈٹ کے ساتھ شائع کیا ہے جو حجۃ اللہ البالغہ کا سب سے اچھا ایڈیشن کہا جاسکتا ہے۔
دوسرے ڈاکٹر قطب الریسونی جو مراکش کے ہیں اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں انہوں نے فقہ اکیڈمی انڈیا سے وابستگی کی تحریری طور پر خواہش ظاہر کی۔
ڈاکٹر ماجد ابور خیہ کا شمار بھی پرانے اور اچھے اساتذہ میں ہوتا ہے، اس طرح دو تین دنوں کا یہ سفر اچھے ماحول میں پورا ہوا۔فالحمد للہ علے ذلک
 
* * * * *

 

 

Recent tweets

Bad Authentication data.. Please read document to config it correct.

About Us

Islamic Fiqh Academy (India) (IFA) was established in 1988 at New Delhi under the guidance and supervision of the great known Islamic Scholars.

Contact Us

Contact

Email:

Phone:

Fax:

Address: